حوزہ نیوز ایجنسی اس نشست میں حجت الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری، حجت الاسلام والمسلمین عسگر دیرباز اور حجت الاسلام والمسلمین سعید روستا آزاد نے گفتگو کرتے ہوئے ایمان، عوامی عزم، قیادت، خود اعتمادی، استقامت اور دینی اقدار کو حقیقی اقتدار کے اہم عوامل کے طور پر پیش کیا۔
حجت الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری:
طاقت کے قرآنی معیارات کی علمی تشریح ضروری ہے
حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے اس نشست میں ایران کی طاقت کو الٰہی محاسبات کی بنیاد پر سمجھنے کے لیے علمی اور تحقیقی نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اس موضوع کو محض سیاسی نعرے یا عمومی دعوے تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے قرآنی اور فکری مبانی کی وضاحت کو ضروری قرار دیا۔ ان کے نقطۂ نظر کے مطابق، جب کسی معاشرے کی طاقت کا جائزہ لیا جائے تو صرف اس کے اقتصادی وسائل، عسکری صلاحیت اور سائنسی ترقی کو سامنے رکھنا کافی نہیں بلکہ اس کے نظریاتی تشخص، اخلاقی بنیادوں، عوامی عزم اور حق کے ساتھ وابستگی کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔

حجت الاسلام والمسلمین کوہساری نے اس امر کی ضرورت اجاگر کی کہ رہبر معظم انقلاب کے بیان کردہ تصورِ اقتدار کو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں سمجھا جائے اور اس کے مختلف پہلوؤں کا علمی و تحقیقی جائزہ لیا جائے۔ اس سلسلے میں ماہرین، محققین اور دینی شخصیات کے مابین گفتگو اور تبادلۂ خیال کو بھی اہمیت حاصل ہے۔
ان کے مطابق، اس موضوع کی تشریح صرف ایران تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے فکری مبانی کو واضح انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ طاقت کے قرآنی تصور اور عالمی سیاست میں رائج مادی پیمانوں کے درمیان فرق کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
حجتالاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے اپنی گفتگو کے تسلسل میں ایرانی مسلح افواج کے کردار اور فوجی، دفاعی و سائنسی صلاحیتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں قومی طاقت کے اہم پہلو قرار دیا۔
انہوں نے کہا: طاقت کے حصول کے لیے مختلف صلاحیتیں بالخصوص فوجی، دفاعی اور سائنسی قوت بھی اہمیت رکھتی ہیں اور کسی ملک کے مقام و مرتبے کا جائزہ لیتے وقت ان عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اس حوزوی استاد نے مختلف معیارات کے مجموعی جائزے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا: جب ہم الٰہی، دینی اور قرآنی نظامِ محاسبات کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ان تمام عوامل کو مدنظر رکھنا چاہیے جو اقتدار کے قیام اور نصرتِ الٰہی کے حصول میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حجت الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے زیرِ بحث فکری نظام میں ’’اولین طاقت‘‘ کے تصور اور عالمی سیاسی ادب میں رائج اصطلاح ’’سپر پاور‘‘ کے مفہوم میں فرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایسی طاقت جو تسلط اور برتری کے حصول کے لیے استعمال ہوتی ہے اور ایسے اقتدار میں فرق کرنا ضروری ہے جس کا مقصد اقوام کی خدمت ہو۔

انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی کے ایران کی طاقت و مقام سے متعلق بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اصل بحث محض رائج مفہوم میں سپر پاور کا درجہ حاصل کرنا نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ طاقت کی نوعیت کیا ہے اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے سرپرست نے مزید کہا: اگر اقتدار کی بات کی جاتی ہے تو یہ سوال بھی اٹھنا چاہیے کہ یہ اقتدار کس مقصد کے لیے استعمال ہوگا؟ کیا اسے ملکوں پر قبضہ کرنے، دولت سمیٹنے، قتل و غارت گری کے لیے بروئے کار لایا جائے گا یا اس کا مقصد دنیا کو امن، صلح، عدل اور اخوت سے ہمکنار کرنا ہے؟
حوزہ و یونیورسٹی کے اس استاد نے وضاحت کی کہ اس نقطۂ نظر کے مطابق طاقت کو اخلاق، انسانیت اور فطرت کی طرف توجہ کے فروغ اور تمام اقوام و قبائل کے درمیان محبت و دوستی کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق اس راستے کی معراج حضرت امام حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عالمی حکومت کا قیام ہے۔
انہوں نے مزید کہا: عالمی معاملات میں جمہوریہ اسلامی ایران کے مقام و مرتبہ کی وضاحت کرتے ہوئے صرف طاقت کے روایتی پیمانوں یا تسلط پسند طاقتوں سے موازنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ طاقت کے مقصد، ماہیت اور اس کے استعمال کے طریقے کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین کوہساری نے کہا: اسی بنیاد پر ایسی طاقت جو عدل، امن، صلح، اخوت اور انسانوں کو تسلط سے نجات دلانے کے لیے استعمال ہو، اس طاقت سے بنیادی طور پر مختلف ہے جو ملکوں پر قبضے اور کسی مخصوص گروہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے بروئے کار لائی جاتی ہے۔
حجتالاسلام والمسلمین عسگر دیرباز:
ایران کی طاقت کا جائزہ کن بنیادوں پر لیا جائے؟
مجلس خبرگانِ رہبری کے رکن حجتالاسلام والمسلمین عسگر دیرباز نے اس نشست میں انقلابِ اسلامی کی کامیابی اور اس کے تسلسل، خطے میں فکرِ مقاومت کے فروغ اور عالمی طاقتوں کے مقابلے میں ایران کی استقامت میں قدرتِ الٰہی کے مظاہر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: الٰہی محاسبات کے مطابق ایران کا برتر طاقت ہونا، تسلط پسندی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ جب تک جمہوریہ اسلامی ایران الٰہی راستے پر گامزن رہے گا اور انسانی معاشرے میں دینِ الٰہی کے نفاذ کی کوشش کرے گا، اسے اللہ تعالیٰ کی عنایت اور حمایت حاصل رہے گی۔

مجلس خبرگانِ رہبری کے اس رکن نے اس نشست کے انعقاد میں حوزہ نیوز ایجنسی اور منتظمین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا: سب سے پہلے میں حوزہ نیوز ایجنسی اور ان عزیز ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس نشست کے انعقاد کے لیے کوششیں کیں۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے معزز اساتذہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔
حجتالاسلام والمسلمین دیرباز نے اپنی گفتگو کے دوران امریکی فوج اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب ہم اس زاویے سے عالمی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ امریکہ، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتا ہے، جدید فوجی سازوسامان، مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے لیکن ان تمام وسائل کے باوجود وہ دو مرتبہ ہمارے خلاف جنگ میں آیا۔
انہوں نے مزید کہا: اگر الٰہی حمایت اور قدرت ہمارے ساتھ نہ ہوتی تو کیا ہم امریکہ کے مقابلے میں ڈٹ سکتے تھے؟ اب امریکہ، یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں کے بعض دانشور اور ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکہ کا یہ اقدام سراسر غلط تھا اور اس نے غلط اندازوں کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا تھا۔
حوزہ و یونیورسٹی کے اس استاد نے مزید کہا: جب کوئی حساب کتاب کیا جاتا ہے اور بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ غلط تھا تو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ اس جائزہ میں کن عوامل کو نظرانداز کیا گیا تھا۔ ہمارے نقطۂ نظر سے ایک اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے حساب کتاب میں قدرتِ الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی حمایت کو شامل نہیں کیا تھا۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: انہوں نے ہمارے معاشرے سے متعلق بعض علامات اور معلومات کو یکجا کیا اور اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر وہ ہمارے ملک پر حملہ کریں گے تو شاید فیصلہ کن ضرب لگانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن ان کے ان اندازوں میں قدرتِ الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی حمایت کو مدنظر نہیں رکھا گیا تھا۔
حجتالاسلام والمسلمین دیرباز نے کہا: ہم نہ صرف امریکہ اور صہیونی حکومت بلکہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک اور نیٹو کے مقابلے میں بھی ثابت قدم رہنے، استقامت دکھانے اور اپنی مزاحمت جاری رکھنے میں کامیاب رہے ہیں، جنہوں نے براہِ راست یا بالواسطہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی مدد کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ہم اپنی مزاحمت بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں اور نئے ہتھیار اور اوزار بھی استعمال کیے ہیں۔ ان میں سے بعض ممکن ہے کہ پہلے سے موجود تھے لیکن ماضی میں انہیں استعمال نہیں کیا جاتا تھا جبکہ اب انہیں بروئے کار لایا گیا ہے۔
حجتالاسلام والمسلمین دیرباز نے کہا: ان امور کا عملی میدان میں بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے کیونکہ ہمارے نقطۂ نظر سے یہ تبدیلیاں ایسی نشانیاں ہیں جو قدرتِ الٰہی کی حمایت کی عکاسی کرتی ہیں اور الٰہی محاسبات کے تناظر میں ایران کے مقام و مرتبے کو واضح کرتی ہیں۔
انہوں نے ایران اور خطے میں موجود مشکلات اور دشمنوں کے غلط اندازوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم اس وقت ایسے حالات سے گزر رہے ہیں کہ ملک اور خطے میں موجود مشکلات اور دشمن کی منصوبہ بندیوں کے باوجود اگر ہم الٰہی حمایت اور معنوی و ملکوتی محاسبات کو بھی مدنظر رکھیں تو دیکھتے ہیں کہ مستقبل کے حوالے سے ہماری امید اور ہمارا اعتمادِ نفس اب بھی بلند سطح پر ہے۔
حجتالاسلام والمسلمین دیرباز نے کہا: یہ امید اور اعتمادِ نفس اللہ تعالیٰ پر توکل کی بدولت ہے۔ ہمیں مستقبل سے امیدیں وابستہ ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ پہلے سے بڑھ کر ہماری عزیز قوم اور محورِ مقاومت کو اپنی غیبی نصرت عطا فرمائے۔
حوزہ و یونیورسٹی کے اس کے استاد نے مزید کہا: ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ یمن، عراق، لبنان اور فلسطین کے عوام بھی پہلے سے بڑھ کر الٰہی نصرت سے بہرہ مند ہوں۔
انہوں نے مزید کہا: میں خصوصی طور پر اس بات کی طرف بھی اشارہ کرنا چاہتا تھا کہ ہم محورِ مقاومت میں بھی اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے آثار دیکھتے ہیں لیکن چونکہ ہماری گفتگو کا بنیادی موضوع ایران ہے، اس لیے میں نے اسی تناظر میں اس مسئلے کی طرف اشارہ کیا اور ایران کے ثابت قدم رہنے میں قدرتِ الٰہی کے کردار پر زور دیا۔
حجت الاسلام والمسلمین روستا آزاد:
خود اعتمادی اور استقامت قومی قوت کی بنیاد ہیں
دفترِ تبلیغاتِ اسلامی کے سرپرست برائے ثقافتی، تبلیغی اور جدید ذرائع ابلاغ حجت الاسلام والمسلمین سعید روستا آزاد نے گفتگو کرتے ہوئے امام خمینی (رہ) اور رہبر معظم انقلاب (رہ) کی قیادت میں ایرانی قوم کے اندر خود اعتمادی، عزت اور استقامت کے جذبے کی تشکیل کو اہم قرار دیا۔

انہوں نے امام خمینی (رہ) کے اس معروف جملے «آمریکا هیچ غلطی نمیتواند بکند» کا حوالہ دیا کہ ’’امریکا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا‘‘ اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ انقلاب اسلامی کے ابتدائی برسوں میں ایران کو شدید مشکلات، عالمی تنہائی، اقتصادی پابندیوں اور مختلف قسم کی محدودیتوں کا سامنا تھا لیکن ان حالات کے باوجود قوم نے خودمختاری اور عزت کے راستے کو ترک نہیں کیا۔
ان کے مطابق، امام خمینی (رہ) نے مشکل حالات میں ایرانی قوم کو مایوسی کے بجائے اعتماد، امید اور استقلال کا پیغام دیا۔ اسی فکری اور تربیتی روایت کو رہبر معظم انقلاب (رہ) نے بھی آگے بڑھایا، جس کے نتیجے میں ایران نے دفاعی، سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے پر تمرکز کیا۔
حجت الاسلام والمسلمین روستا آزاد نے میزائل اور ڈرون سمیت دفاعی شعبوں میں ایران کی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: قومی صلاحیتوں کی تعمیر میں خود اعتمادی اور مسلسل جدوجہد کا اہم کردار ہے۔ کسی بھی قوم کی طاقت کا جائزہ لیتے وقت اس کے موجودہ وسائل کے ساتھ ساتھ اس کے عزم و ارادہ، مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت اور مستقبل کے اہداف کے لیے جدوجہد کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے شہداء کی قربانیوں اور ان کے ایثار کو بھی اس سفر کا اہم حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، قومی عزت، خودمختاری اور استقامت جیسے اہداف کے حصول میں ان افراد کی قربانیاں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں جنہوں نے اپنے عقائد اور قومی مقاصد کے لیے مشکلات برداشت کیں۔

مادی طاقت اور الٰہی محاسبات میں بنیادی فرق
نشست کے مرکزی موضوع کے مطابق، طاقت کے دو مختلف زاویوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ پہلے زاویے میں کسی ملک کی عسکری قوت، معیشت، ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور عالمی اثر و رسوخ جیسے عوامل کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ دوسرے زاویے میں ان مادی عوامل کے ساتھ ایمان، اخلاقی وابستگی، حق کی حمایت، ظلم کے خلاف استقامت اور الٰہی وعدوں پر اعتماد کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔
اس تناظر میں ایران کو ’’الٰہی محاسبات کی بنیاد پر دنیا کی پہلی طاقت‘‘ قرار دینے کے تصور کی تشریح کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دینی و نظریاتی مبانی کو واضح کیا جائے اور ان کا روایتی پیمانوں کے ساتھ تعلق سمجھا جائے۔
اس نشست میں پیش کیے گئے مباحث کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ حقیقی طاقت کو صرف مادی وسائل اور عسکری برتری تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ایمان، خود اعتمادی، قومی عزم، قیادت، قربانی، استقامت اور دینی اقدار بھی کسی معاشرے کی قوت اور اس کے اجتماعی کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔










آپ کا تبصرہ